مصنف ابن ابي شيبه
كتاب فضائل القرآن
في قراءة النبي ﷺ (على غيره) باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرے پر پڑھنا
٣٢٣١٠ - حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد اللَّه قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "اقرأ علي القرآن"، فقلت: أَقرأُ عليك وعليك أنزل، قال: "إني أشتهي أن أسمعه من غيري"، قال: فقرأت عليه النساء حتى بلغت (عليه) (١): ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: ٤١]، رفعت رأسي (أو) (٢) غمزني رجل إلى جنبي، فرفعت رأسي فرأيت عينيه تسيل (٣).حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : مجھے قرآن سناؤ۔ میں نے عرض کیاً ! میں آپ کو سناؤں ، حالانکہ قرآن تو آپ ہی پر نازل ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن سنوں۔ عبد اللہ فرماتے ہیں ! پس میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سورة نساء کی تلاوت فرمائی۔ یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا۔ ( پھر کیا کیفیت ہوگی ( ان لوگوں کی ) جب لائیں گے ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اور لائیں گے تمہیں ( اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) ان پر بطور گواہ) میں نے اپنا سر اٹھایا یا ایک آدمی نے میرے پہلو کو ٹٹولا تو میں نے اپنا سر اٹھایا پس میں نے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔