حدیث نمبر: 32229
٣٢٢٢٩ - (حدثنا وكيع) (١) حدثنا (عبد الملك) (٢) بن شداد (الأزدي) (٣) عن (عبيد اللَّه) (٤) بن سليمان العبدي عن أبي (حكيمة) (٥) (العبدي) (٦) قال: كنا نكتب المصاحف بالكوفة فيمر علينا علي، ونحن نكتب فيقوم فيقول: أجل قلمك، قال: فقططت ثم كتبت، فقال: هكذا نوروا ما نور اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبید اللہ بن سلیمان العبدی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو حکیمہ العبدی نے فرمایا ! ہم کوفہ میں قرآن کو مصاحف میں لکھا کرتے تھے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہم پر گزر ہوا اس حال میں کہ ہم لکھ رہے تھے۔ پس آپ ٹھہر گئے اور فرمایا : اپنے قلم کی نوک کاٹو۔ آپ فرماتے ہیں ! میں نے اس کی نوک کاٹی پھر میں نے لکھا، تو آپ نے فرمایا : اس طرح واضح کرو جیسا کہ اللہ نے واضح کیا۔

حواشی
(١) سقط من النسخ، وتقدم الخبر بإثباتها [٨٧٨٣].
(٢) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [أ، هـ]: (العبدي).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (عبيد).
(٥) في [أ، ب، جـ، ط]: (حكيم)
(٦) في [جـ]: (الحدي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32229
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الملك بن شداد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32229، ترقيم محمد عوامة 30853)