مصنف ابن ابي شيبه
كتاب فضائل القرآن
فيمن لا تنفعه قراءة القرآن باب: ان لوگوں کا بیان جن کو قرآن کا پڑھنا نفع نہیں پہنچائے گا
٣٢٢٠١ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن زياد بن لبيد قال: ذكر رسول اللَّه ﷺ (شيئًا) (٢) فقال: " (وذاك) (٣) عند أوان (٤) ذهاب العلم"، قال: قلت: يا رسول اللَّه، كيف يذهب العلم ونحن نقرأ القرآن، ونقرئه أبناءنا (ويقرئه أبناؤنا) (٥) أبناءهم إلى يوم القيامة؟ قال: "ثكلتك (أمك) (٦) زياد، إن كنتُ لأراك (٧) أفقه رجل بالمدينة، أو ليس هذه اليهود والنصارى يقرأون التوراة ⦗٤٧٣⦘ والإنجيل، لا يعلمون بشيء مما (فيهما) (٨) " (٩).حضرت زیاد بن لبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند فتنوں کا ذکر کیا : پھر فرمایا : یہ سب علم کے اٹھ جانے کے وقت ہوگا، راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولادوں کو پڑھاتے ہیں اور آگے وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے ، یوں سلسلہ قیامت تک جاری رہے گاَ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے اے زیاد ! میں تو تجھے مدینہ میں سب سے سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا ! کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے اور یہ لوگ ان میں پائی جانے والی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ؟