حدیث نمبر: 32201
٣٢٢٠١ - حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن زياد بن لبيد قال: ذكر رسول اللَّه ﷺ (شيئًا) (٢) فقال: " (وذاك) (٣) عند أوان (٤) ذهاب العلم"، قال: قلت: يا رسول اللَّه، كيف يذهب العلم ونحن نقرأ القرآن، ونقرئه أبناءنا (ويقرئه أبناؤنا) (٥) أبناءهم إلى يوم القيامة؟ قال: "ثكلتك (أمك) (٦) زياد، إن كنتُ لأراك (٧) أفقه رجل بالمدينة، أو ليس هذه اليهود والنصارى يقرأون التوراة ⦗٤٧٣⦘ والإنجيل، لا يعلمون بشيء مما (فيهما) (٨) " (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زیاد بن لبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند فتنوں کا ذکر کیا : پھر فرمایا : یہ سب علم کے اٹھ جانے کے وقت ہوگا، راوی فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولادوں کو پڑھاتے ہیں اور آگے وہ اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے ، یوں سلسلہ قیامت تک جاری رہے گاَ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیری ماں تجھے گم پائے اے زیاد ! میں تو تجھے مدینہ میں سب سے سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا ! کیا یہ یہود و نصاریٰ تورات اور انجیل نہیں پڑھتے اور یہ لوگ ان میں پائی جانے والی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ؟

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط].
(٣) في [ك]: (وذلك).
(٤) في [ك]: زيادة (عند).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [ط]: (أمره).
(٧) في [هـ]: زيادة (من) أخذًا من ابن ماجه.
(٨) في [جـ، ك]: (فيها).
(٩) منقطع؛ سالم لم يسمع من زياد بن لبيد، أخرجه أحمد (١١٤٧٣)، وابن ماجه (٤٠٤٨)، والبخاري في التاريخ الكبير ٣/ ٣٤٤، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٩٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٣٠٥)، والطبراني (٥٢٩١)، وأبو خيثمة في العلم (٥٢)، والحاكم ٣/ ٥٩٠، والمزي ٩/ ٥٠٨.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32201، ترقيم محمد عوامة 30825)