حدیث نمبر: 32195
٣٢١٩٥ - حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن شداد بن معقل قال: قال عبد اللَّه: إن هذا القرآن الذي بين أظهركم يوشك أن ينزع منك، قال: قلت: كيف ينزع منا وقد أثبته اللَّه في قلوبنا وأثبتناه في مصاحفنا؟ قال: يسرى عليه في ليلة واحدة (فينزع) (١) ما في القلوب، ويذهب ما في المصاحف، ويصبح الناس منه فقراء، ثم قرأ: ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ (٢) [الإسراء: ٨٦].
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شداد بن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ یہ قرآن جو تمہارے سینوں میں محفوظ ہے۔ قریب ہے کہ یہ تم سے چھین لیا جائے گا۔ راوی فرماتے ہیں ! میں نے عرض کیا : کیسے ہم سے اس کو چھین لیا جائے گا حالانکہ ہم نے اس کو اپنے دلوں میں محفوظ کیا ہے اور اپنے صحیفوں میں اس کو ضبط کیا ہے ؟ ! آپ نے فرمایا : پس اس پر ایک رات ایسی گزرے گی کہ جو کچھ دلوں میں محفوظ ہوگا اس کو چھین لیا جائے گا اور جو کچھ مصاحف میں ضبط ہوگا اے مٹا دیا جائے گا۔ اور لوگ صبح کریں گے اس حال میں کہ وہ اس سے خالی ہوں گے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : اور اگر ہم چاہیں تو چھین لے جائیں وہ سب جو ہم نے وحی کیا ہے تمہاری طرف۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (فينترع).
(٢) مجهول؛ شداد بن معقل مجهول، أخرجه الحاكم (٨٥٣٨)، وسعيد بن منصور ٢/ (٩٧)، وعبد الرزاق (٥٩٨٠)، والمزي ١٢/ ٤٠٣، والطبراني (٨٦٩٩)، والبخاري في خلق أفعال العباد ص ٨٦، ونعيم بن حماد في الفتن (١٦٦٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32195، ترقيم محمد عوامة 30819)