مصنف ابن ابي شيبه
كتاب فضائل القرآن
من نهى عن التماري في القرآن باب: جو شخص قرآن کے بارے میں جھگڑا کرنے سے روکے
حدیث نمبر: 32166
٣٢١٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن محمد بن ⦗٤٦٣⦘ إبراهيم عن (سعد) (١) مولى عمرو بن (العاص) (٢) قال: تشاجر رجلان في آية فارتفعا إلى رسول اللَّه ﷺ (قال) (٣): "لا تماروا فيه، فإن (المراء) (٤) فيه كفر" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد جو کہ حضرت عمرو بن العاص کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ دو آدمی قرآن کی ایک آیت میں جھگڑ پڑے اور دونوں جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا : تم اس میں جھگڑو مت۔ اس لیے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (سعيد).
(٢) في [ك]: (العاصي).
(٣) في [ك]: (فقال).
(٤) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (مراء).