حدیث نمبر: 32163
٣٢١٦٣ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن أبي قلابة أن (أناسًا) (١) من ⦗٤٦٢⦘ أهل الكوفة (أتوا) (٢) أبا الدرداء فقالوا: أن إخوانا (لك) (٣) من أهل الكوفة يقرؤنك السلام ويأمرونك أن توصيهم، قال: فأقرؤوهم السلام ومروهم: فليعطوا القرآن (خزائمه) (٤) فإنه يحملهم على القصد والسهولة، (ويجنبهم) (٥) الجور والحزونة (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ کوفہ کے کچھ لوگ حضرت ابو الدرداء کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ کے کوفہ کے بھائی آپ کو سلام کہہ رہے تھے اور آپ سے درخواست کر رہے تھے کہ آپ ان کے لیے کوئی وصیت کردیجیے۔ آپ نے فرمایا : پس تم ان کو سلام کہنا اور ان کو حکم دینا کہ وہ قرآن پر عمل کریں دل و جان سے وہ ان کو سہولت و آسانی دے گا۔ اور ان کو ظلم اور غم سے بچائے گا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (ناسًا).
(٢) في [ط، ك]: (لقوا).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) أي: اعمل به ليكون كالخزام، وفي [أ، ب، ط]: (حزائمه).
(٥) في [ك]: (واجنبهم).