حدیث نمبر: 32130
٣٢١٣٠ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا الأعمش عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: خطبنا عمر فقال عليٌّ أقضانا وأبيٌّ أقرؤنا، وإنا (نترك) (١) أشياء مما (يقرأ) (٢) أُبيّ وإن (أبيا) (٣) يقول: سمعت رسول اللَّه ﷺ ولا أترك قول رسول اللَّه ﷺ (٤) (لشيء) (٥)، وقد (نزل) (٦) بعد أبي كتاب (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمانے لگے : علی رضی اللہ عنہ ہم میں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اور ابی ّ ہم میں سب سے اچھا پڑھنے والا ہے، اور ہم نے کچھ چیزیں چھوڑ دی ہیں جن کو ابی ّ پڑھتے ہیں ۔ اور حضرت ابی ّ فرماتے تھے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سنا ہے، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑوں گا۔ اور تحقیق کتاب تو ابی ّ کے بعد نازل ہوئی تھی۔
حواشی
(١) في [أ]: (لصركُ)، وفي [هـ]: (لنترك).
(٢) في [ك]: (يقول).
(٣) في [ك]: (أبي).
(٤) سقط من: [ك].
(٥) في [أ]: (بشيء)، وفي [هـ]: (شيء).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (ترك)، وانظر: تاريخ ابن عساكر ٧/ ٣٢٥.