حدیث نمبر: 32122
٣٢١٢٢ - حدثنا زيد بن حباب عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد بن جدعان عن عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيه أن جبريل قال للنبي ﷺ: اقرأ القرآن على حرف، فقال له ميكائيل: استزده، فقال: (على) (١) حرفين، ثم قال: استزده، ⦗٤٥٢⦘ حتى بلغ سبعة أحرف، كلها شاف كاف كقولك: هلم (وتعال) (٢) ما لم يختم آية رحمة بآية عذاب، أو آية عذاب برحمة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا : قرآن کو ایک حرف پر پڑھیے، تو حضرت میکائیل نے ان سے کہا : اس میں اضافہ کردو، تو حضرت جبرائیل نے فرمایا : دو حرفوں پر پڑھیں ! پھر میکائیل نے کہا : اس میں اضافہ کردو، یہاں تک کہ وہ سات حروف تک پہنچ گئے۔ جن میں سے ہر ایک شافی کافی ہے۔ جیسا کہ تمہارا کہنا۔ ھلم اور تعال ، دونوں کا ایک معنی ہے، آؤ۔ جب تک وہ رحمت کی آیت کو عذاب کی آیت کے ساتھ مکمل نہ کرے اور عذاب کی آیت کو رحمت کی آیت کے ساتھ مکمل نہ کرے۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، ط]: (يقال)، وفي [ك]: (تعلى).