حدیث نمبر: 32111
٣٢١١١ - حدثنا إسحاق الأزرق عن الأعمش قال (١): قال لي إبراهيم: إن إبراهيم التيمي يزيد أن تقرئه قراءة عبد اللَّه، قلت: لا أستطيع، قال: بلى، (٢) فإنه قد أراد (ذاك) (٣)، قال: فلما رأيته (قد هَوِي ذلك) (٤) قلت: فيكون هذا بمحضر منك فنتذاكر حروف عبد اللَّه، فقال: (اكفني) (٥) هذا، قلت: وما تكره من هذا، قال: أكره أن أقول (لشيء هو كذا، وليس) (٦) هو (هكذا) (٧)، أو أقول: فيها واو (وليس) (٨) فيها واو.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے مجھ سے فرمایا : بلاشبہ ابراہیم التیمی چاہ رہے ہیں کہ تم ان کو حضرت عبد اللہ کی قراءت پڑھا دو ۔ میں نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں، پس بیشک ان کا یہی ارادہ ہے، اعمش فرماتے ہیں : جب میں نے ان کو دیکھا کہ وہ یہی چاہ رہے ہیں تو میں نے کہا : ٹھیک ہے یہ آپ کی موجودگی میں ہوگا، تو ہم نے حضرت عبد اللہ کے حروف کا مذاکرہ کیا۔ تو آپ نے فرمایا : مجھے اتنا کافی ہے۔ میں نے کہا : آپ اس طرح ناپسند کیوں کرتے ہیں پڑھانا، آپ نے فرمایا : میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی آیت کے بارے میں کہوں : کہ وہ ایسے ہے تو وہ اس طرح نہ ہو یا میں کہوں : اس میں واؤ ہے ، اور اس مں ں واؤ نہ ہو۔

حواشی
(١) في [ك]: زيادة (قرأ كتب).
(٢) في [أ، ط، هـ]: زيادة (قال).
(٣) في [هـ]: (ذلك).
(٤) سقط من: [ط، هـ].
(٥) في [أ، ط، هـ]: (لا يكفي).
(٦) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٧) في [أ، ب، ط، ك]: (كذا).
(٨) في [ط، هـ]: (ليس).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32111
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32111، ترقيم محمد عوامة 30736)