حدیث نمبر: 32103
٣٢١٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس أن عمر قال: على المنبر: ﴿(وَفَاكِهَةً) (٢) وَأَبًّا﴾ [عبس: ٣١]، ثم (قال) (٣): هذه الفاكهة قد عرفناها فما الأب؟ ثم رجع إلى نفسه فقال: إن هذا لهو التكلف، يا عمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے منبر پر آیت تلاوت فرمائی۔ ( اور پھل اور چارے) ۔ پھر فرمایا : یہ پھل تو ہم پہچانتے ہیں۔ پس اَبًّا کیا ہے ؟ پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے عمر ! یقینا یہ تو تکلف ہے !۔

حواشی
(١) في [ك]: (أنبأنا).
(٢) في [جـ، ك]: (فاكهة).
(٣) تكررت في: [جـ، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32103
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32103، ترقيم محمد عوامة 30729)