حدیث نمبر: 32092
٣٢٠٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن (عمر) (١) بن حمزة عن سالم عن ابن عمر قال: سألني عمر: كم معك من القرآن؟ قلت: عشر سور، فقال لعبيد اللَّه بن عمر: كم معك من القرآن؟ قال: سورة، قال عبد اللَّه: فلم (ينهنا ولم يأمرنا) (٢) غير أنه قال: (فإن) (٣) كنتم (متعلمين) (٤) منه بشيء، فعليكم بهذا المفصل فإنه أحفظ (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : مجھ سے حضرت عمر نے پوچھا : تمہیں کتنا قرآن یاد ہے ؟ میں نے کہا : ایک سورت، حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں : پھر نہ انہوں نے ہمیں کسی کا م کا حکم دیا اور نہ ہی کسی کام سے منع کیا سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا : پس اگر تم قرآن میں سے کچھ سیکھو تو تم پر یہ مفصل سورتیں لازم ہیں ۔ اس لیے کہ یہ زیادہ محفوظ رہتی ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ز، ط، هـ]: (عمرو).
(٢) في [ك]: (فلم يأمرنا ولم ينهانا).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (وإن).
(٤) في [جـ]: (متعلين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32092
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عمر بن حمزة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32092، ترقيم محمد عوامة 30719)