حدیث نمبر: 32041
٣٢٠٤١ - حدثنا زيد بن الحباب قال: (حدثنا) (١) موسى بن عبيدة (الربذي) (٢) قال: حدثنا سعيد بن أبي سعيد المقبري عن (٣) عثمان بن الحكم عن كعب أنه قال: يمثل القرآن لمن كان يعمل به في الدنيا يوم القيامة كأحسن صورة رآها؛ (٤) (أحسنه) (٥) وجها، و (أطيبه) (٦) ريحًا فيقوم بجنب صاحبه، (فكلما) (٧) جاءه روعٌ هدّأ (روعه) (٨) وسكنه، وبسط له أمله، فيقول له: جزاك اللَّه خيرا من صاحب، فما أحسن صورتك وأطيب ريحك، فيقول له: أما تعرفني (تعال) (٩) اركبني، فطالما ركبتك في الدنيا، أنا عملك، إن عملك كان حسنًا، فترى صورتي حسنة، ⦗٤٢٨⦘ وكان طيبًا فترى ريحي طيبة، فيحمله فيوافي به الرب ﵎ فيقول: يا ر (ب) (١٠) هذا فلان -وهو أعرف به منه- قد (شغلته) (١١) في (أيامه) (١٢) في حياته (في) (١٣) الدنيا أظمأت نهاره وأسهرت ليله، فشفعني فيه، فيوضع تاج الملك على رأسه، ويكسى حلة الملك، فيقول: يا رب، (قد كنت) (١٤) أرغب له عن هذا، وأرجو له منك أفضل من هذا، فيعطى الخلد بيمينه والنعمة بشماله، فيقول: يا رب، إن كل تاجر قد دخل على أهله من تجارته، فيشفع في أقاربه، (وإن) (١٥) كان كافرًا مثل له عمله في أقبح (صورة) (١٦) (رآها) (١٧) و (أنتنه) (١٨)، فكلما جاءه روع زاده روعا فيقول: قبحك اللَّه من صاحب، فما أقبح (صورتك) (١٩) وما أنتن ريحك، فيقول: من أنت؟ فيقول: أما تعرفني، أنا عملك (إنه) (٢٠) كان قبيحا فترى (صورتي) (٢١) قبيحة، وكان منتنا فترى ريحي منتنة، فيقول: تعال (حتى) (٢٢) أركبك، فطالما ركبتني في الدنيا، فيركبه فيوافي به اللَّه، فلا يقيم له وزنا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عثمان بن حکم فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : جو شخص دنیا میں قرآن کے احکامات پر عمل کرتا تھا قیامت کے دن اس کے قرآن پڑھنے کو ایک خوبصورت چہرے والے کی شکل دے دی جائے گی جس کو وہ شخص دیکھ سکے گا۔ وہ چہرے کے اعتبار سے خوبصورت ترین ہوگا اور خوشبو کے اعتبار سے پاکیزہ ترین ہوگا۔ پھر وہ قرآن اپنے ساتھی کے پہلو میں کھڑا ہوجائے گا۔ اور جو بھی خوف زدہ کرنے والی چیز اس کے پاس آئے گی وہ اس کے خوف کو دور کرے گا اور اس کو تسکین پہنچائے گا۔ اور اس کے لیے اس کی امید کو کشادہ کرے گا۔ وہ شخص اس کو کہے گا ! اللہ اس ساتھی کو بہترین جزا دے۔ تیری صورت کتنی حسین ہے اور تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے ؟ ! تو وہ قرآن اس کو کہے گا ! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا ؟ آؤ مجھ پر سوار ہو جاؤ۔ پس دنیا میں میں تجھ پر سوار تھا اور میں تیرا عمل تھا۔ یقینا تیرا عمل اچھا تھا اس لیے تو نے آج میری اچھی شکل دیکھی ۔ اور تیری عمل پاکیزہ تھا اس لیے آج تو نے میری پاکیزہ خوشبو دیکھی۔ پھر وہ اس شخص کو سوار کرے گا اور اپنے رب کے پاس لے جائے گا اور کہے گا : اے میرے رب ! یہ فلاں شخص ہے۔ حالانکہ اللہ اس سے زیادہ اس کو پہچانتے ہیں۔ تحقیق میں نے اس کو دنیا کی زندگی میں مصروف رکھا۔ میں نے اس کو دن میں پیاسا رکھا۔ اور میں نے رات کو اس کو جگایا۔ پس آپ اس کے بارے میں میری شفاعت کو قبول کیجئے۔ پھر اس شخص کے سر پر بادشاہ کا تاج پہنا دیا جائے گا ۔ اور اسے بادشاہ کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا ! اے میرے رب ! میں اس سے کہیں زیادہ اس کو مرغوب تھا۔ اور میں تجھ سے اس شخص کے لیے اس سے بھی زیادہ فضل کی امید کرتا ہوں تو پھر اس شخص کے دائیں ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی عطا کردی جائے گی، پھر وہ قرآن کہے گا : اے میرے رب ! یقینا ہر تاجر اپنی تجارت کا نفع اپنے گھر والوں کو بھی دیتا ہے۔ پھر اس شخص کے رشتہ داروں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اور جب کوئی شخص کافر ہو تو اس صورت میں اس کے عمل کو بد ترین شکل والے آدمی کی صورت دے دی جاتی ہے جسے وہ دیکھ سکے گا، اور جس کی بو انتہائی بد بودار ہوگی۔ پس جب بھی کوئی خوف زدہ کرنے والی چیز اس کے پاس آتی ہے تو یہ اس کے خوف میں مزید اضافہ کرتا ہے ۔ پھر کافر شخص کہے گا ! اللہ تجھ جیسے ساتھی کو مزید برا کرے تو کتنا بد صورت شکل والا اور کتنی بری بدبو والا ہے ؟ ! پھر وہ کہے گا : تو کون ہے ؟ وہ کہے گا ! کیا تو مجھے نہیں پہچانتا ؟ یقینا میں تیرا عمل ہوں۔ بیشک تیرا عمل برا تھا اس لیے تو مجھے بدصورت دیکھ رہا ہے، اور تر ا عمل بدبودار تھا اس لیے تو بھی مجھے انتہائی بد بودار شکل میں دیکھ رہا ہے۔ پھر وہ کہے گا ! آؤ یہاں تک کہ میں تم پر سوار ہوں پس تو دنیا میں مجھ پر سوار تھا۔ پھر وہ اس شخص پر سوار ہو کر اسے اللہ کے سامنے لے جائے گا اور وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (حدثني).
(٢) في [أ، ب، ط]: (الزيدي).
(٣) في [ك]: زيادة (أبي).
(٤) في [هـ]: زيادة (و).
(٥) في [هـ]: (أحسنها).
(٦) في [ط، هـ]: (أطيبها).
(٧) في [أ، ب، جـ، ط]: (فلما).
(٨) تكررت في: [ب].
(٩) في [ك]: (تعلى).
(١٠) سقط من: [جـ].
(١١) في [ك]: (أشغلته).
(١٢) في [جـ]: (أيامته).
(١٣) سقط من: [جـ، ك].
(١٤) سقط من: [ك].
(١٥) في [جـ، ك]: (وإذا).
(١٦) في [ع]: (سورة)، وفي [هـ]: (صورته).
(١٧) في [أ]: (رواها).
(١٨) في [هـ]: (أنتنها).
(١٩) في [ك]: (سورتك).
(٢٠) في [أ، هـ]: (إن عملك).
(٢١) في [ك]: (سورتك).
(٢٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32041
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32041، ترقيم محمد عوامة 30669)