مصنف ابن ابي شيبه
كتاب فضائل القرآن
من قال: يشفع القرآن لصاحبه يوم القيامة باب: جو کہے: قرآن اپنے پڑھنے والے کی قیامت کے دن شفاعت کرے گا
٣٢٠٤٠ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا (بشير) (١) بن المهاجر قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ فسمعته يقول: "إن القرآن يلقى صاحبه يوم القيامة حين ينشق عنه قبره كالرجل (الشاحب) (٢) يقول له: هل تعرفني؟ فيقول: ما أعرفك، فيقول له: أنا صاحبك القرآن الذي أظمأتك في (الهواجر) (٣) (وأسهرت) (٤) ليلك، وإن (كل) (٥) تاجر من وراء تجارته، وإنك اليوم من وراء كل تجارة، قال: فيعطى الملك بيمينه والخلد بشماله، ويوضع على رأسه تاج الوقار، ويكسى والداه حلتين، لا يقوم لهما أهل (الدنيا) (٦)، فيقولان: بم كُسينا هذا؟ قال: فيقال لهما: بأخذ ولدكما القرآن، ثم يقال له: اقرأ ⦗٤٢٧⦘ واصعد في درج الجنة وغرفها، فهو في صعود ما دام يقرأ هذًّا (كان) (٧) أو (ترتيلًا) " (٨).حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : قرآن قیامت کے دن دبلے آدمی کی صورت میں اپنے ساتھی سے ملے گا جب اس کی قبر پھٹے گی۔ اسے کہے گا : کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ شخص کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا پھر وہ اس شخص کو کہے گا : میں تیرا ساتھی قرآن ہوں جس نے تجھے شدید گرمی میں پیاسا رکھا اور تیری راتوں میں تجھے جگایا۔ اور یقینا ہر تاجر کو اس کی تجارت کا نفع ملتا ہے۔ لہٰذا تجھے آج تجارت کا نفع ملے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کے دائیں ہاتھ میں بادشاہت دے دی جائے گی، اور اس کے بائیں ہاتھ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی دے دی جائے گی۔ اور اس کے سر پر عزت کا تاج پہنایا جائے گا۔ اور اس کے والدین کو دو خوبصورت جوڑے پہنائے جائیں گے ۔ جس کا ساری دنیا والے مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وہ دونوں کہیں گے۔ کس وجہ سے ہمیں یہ کپڑے پہنائے گئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! ان دونوں سے کہا جائے گا ! تمہارے بچہ کے قرآن حفظ کرنے کی وجہ سے۔ پھر اس حافظ قرآن سے کہا جائے گا : پڑھو اور جنت کے درجوں اور اس کے بالا خانوں میں چڑھتے جاؤ۔ پس وہ جب تک پڑھتا رہے گا آہستہ ہو یا تیز وہ بلند ہوتا رہے گا۔