حدیث نمبر: 32023
٣٢٠٢٣ - حدثنا أبو معاوية وحفص عن الأعمش عن (شقيق) (١) قال: قال عبد اللَّه: إني قد (تسمعت) (٢) (إلى) (٣) القراءة فوجدتهم متقاربين (فاقرأوا) (٤) كما علمتم، وإياكم والتنطع والاختلاف -زاد أبو معاوية: إنما هو كقول (أحدكم) (٥): هلم (وتعال) (٦) (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا ! میں نے کچھ تلاوت کرنے والوں کو غور سے سنا تو میں نے ان کو باہم قریب پایا۔ پس جیسے تمہیں سکھایا گیا ویسے پڑھو۔ اور تکلف اور اختلاف سے بچو۔ ابو معاویہ نے یہ اضافہ کیا ہے ! یہ باہمی قرب تو تم میں سے کسی ایک کے ایسے قول کی طرح ہے ھلم اور تعال یعنی دونوں کا معنی ہے آؤ۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (سفيان).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (سمعت).
(٣) في [ط]: (أو)، وفي [أ، ط، هـ]: (أولي).
(٤) في [هـ]: (فاقرأوه).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) في [ك]: (وتعلى).