حدیث نمبر: 32003
٣٢٠٠٣ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا أبان بن إسحاق قال: حدثني رجل من بجيلة قال: خرج جندب البجلي في سفر له قال: فخرج معه ناس من قومه، حتى إذا كانوا بالمكان الذي يودع بعضهم بعضًا، قال: أي قوم، عليكم بتقوى اللَّه، عليكم بهذا القرآن فالزموه على ما كان من جهد وفاقة، فإنه نور بالليل المظلم وهدى بالنهار (١).
مولانا محمد اویس سرور

قبیلہ بجیلہ کے ایک شخص فرماتے ہیں کہ حضرت جندب بَجَلی ایک سفر میں تشریف لے گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی قوم کے بھی کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے۔ یہاں تک کہ وہ ایسی جگہ میں پہنچے کہ بعض لوگ بعض کو الوداع کہنے لگے۔ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑ لو۔ یہ قرآن لازم ہے تم پر کہ اس کو لازم پکڑو۔ وہ شخص جو تکلیف اور فاقہ میں ہے یہ قرآن اس کے لیے اندھیری رات میں روشنی کا ذریعہ ہے اور عین ہدایت کا ذریعہ ہے۔

حواشی
(١) مجهول؛ لإبهام الرجل البجلي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32003
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32003، ترقيم محمد عوامة 30631)