حدیث نمبر: 32002
٣٢٠٠٢ - حدثنا أبو معاوية (عن) (١) الهجري عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن هذا القرآن مأدبة اللَّه فتعلموا (٢) مأدبة اللَّه ما استطعتم، ⦗٤١٦⦘ إن هذا القرآن (٣) حبل اللَّه، وهو النور البين، والشفاء النافع، عصمة لمن تمسك به ونجاة لمن تبعه لا يعوج فيقوم، ولا يزيغ فيستعتب، ولا تنقضي عجائبه ولا يخلق من كثرة الرد" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، پس تم اپنی طاقت کے بقدر اللہ کے دسترخوان سے سیکھو۔ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے، اور یہ واضح اور روشن نور ہے، اور شفا دینے والا اور نفع پہنچانے والا ہے، حفاظت کا ذریعہ ہے اس شخص کے لیے جو اسے مضبوطی سے پکڑلے، اور نجات کا ذریعہ ہے اس شخص کے لیے جو اس کی تعلیمات کی پیروی کرے، یہ ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کیا جائے، یہ عیب دار نہیں ہوتا کہ اس کا عیب دور کیا جائے اور اس کے معانی کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اور بار بار پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) زاد في [هـ]: (من).
(٣) زاد في [هـ]: (هو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32002
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ أخرجه الحاكم ١/ ٥٥٥، والمروزي في قيام الليل ٨/ (٧٠)، والخطيب في الجامع لأخلاق الراوي ١/ ١٠٧، والبيهقي في الشعب (١٩٣٣)، وورد موقوفًا أخرجه الدارمي ٢/ ٣٠٨ (٣٣١٥)، وسعيد بن منصور ٢ (٧)، وعبد الرزاق (٦٠١٧)، والفريابي في فضائل القرآن (٥٩)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٣٠، والطبراني ٩/ (٨٦٤٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32002، ترقيم محمد عوامة 30630)