٣٢٠٠١ - حدثنا حسين بن علي عن حمزة الزيات عن أبي المختار (الطائي) (١) عن ابن أخي الحارث الأعور عن الحارث عن علي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "كتاب اللَّه (فيه) (٢) خبر ما قبلكم ونبأ ما بعدكم وحكم ما بينكم، هو الفصل ليس بالهزل، هو الذي لا تزيغ به الأهواء، ولا (يشبع) (٣) منه العلماء، ولا يخلق عن كثرة رد، ولا تنقضي عجائبه، هو الذي من تركه من جبار قصمه اللَّه، ومن ابتغى الهدى في غيره أضله اللَّه، هو حبل اللَّه المتين وهو الذكر الحكيم، وهو الصراط المستقيم، هو الذي من عمل به أجر، ومن حكم به عدل، ومن دعا إليه (دعا) (٤) إلى صراط مستقيم، خذها إليك يا أعور" (٥).حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ! کتاب اللہ میں تم سے پہلے لوگوں کی باتیں ہیں اور تم سے بعد والے لوگوں کی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان والے لوگوں کے لیے احکام ہیں۔ یہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہے کوئی مذاق کی بات نہیں۔ اس کی وجہ سے نفس ٹیڑھا نہیں ہوتا۔ اور علماء کبھی اس سے سیر نہیں ہوسکتے اور بار بار پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا۔ اور اس کے معانی کے اسرار و عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ جو کوئی اس کو چھوڑ دیتا ہے بےرحمی کی وجہ سے تو خدا اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے۔ اور جو کوئی اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت کو تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے گمراہ کردیتا ہے۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ اور یہ نعمت اور حکمت سے بھرپور ہے۔ اور یہ سیدھا راستہ ہے۔ جو کوئی اس پر عمل کرتا ہے وہ اجر پاتا ہے، اور جو اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے وہ انصاف کرتا ہے۔ اور جو شخص اس کی طرف بلاتا ہے وہ سیدھے راستے کی طرف بلاتا ہے۔ اے اعور اس کو مضبوطی سے پکڑ لو۔