حدیث نمبر: 32000
٣٢٠٠٠ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عبد الحميد بن جعفر عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي شريح الخزاعي قال: خرج علينا رسول اللَّه ﷺ فقال: " (أبشروا) (١) أبشروا، أليس تشهدون أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه؟ " قالوا: نعم قال: "فإن هذا القرآن سببٌ (طرفه) (٢) بيد اللَّه، (وطرفه) (٣) بأيديكم، فتمسكوا به، فإنكم لن ⦗٤١٥⦘ تضلوا ولن تهلكوا بعده أبدا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو شریح الخزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : خوشخبری سنو، خوشخبری سنو، کیا تم لوگ گواہی نہیں دیتے اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا یہ قرآن رسی ہے۔ جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، پس تم اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ بیشک تم اس کے بعد ہرگز نہ گمراہ ہو گے اور نہ ہی کبھی ہلاک ہو گے۔

حواشی
(١) سقط من: [ب]، وفي [ط]: (أبشرو وبشروا).
(٢) في [جـ]: (طرقه).
(٣) في [جـ]: (طرقه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 32000
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه ابن حبان (١٢٢)، وعبد بن حميد (٤٨٣)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٠٢)، والطبراني ٢٢/ (٤٩١)، وابن نصر كما في مختصر قيام الليل ص ٧٨، والخطيب في الفقيه والمتفقه ١/ ١٩٥، والبيهقي في شعب الإيمان (١٩٤٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 32000، ترقيم محمد عوامة 30628)