حدیث نمبر: 31999
٣١٩٩٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد اللَّه بن الوليد قال: أخبرني عمر ابن أيوب قال: أخبرني أبو إياس معاوية بن قرة قال: كنت نازلًا على عمرو بن النعمان بن مقرن، فلما حضر رمضان جاءه رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال: إن الأمير يقرئك السلام (ويقول) (١): إنا (لم) (٢) ندع قارئًا شريفًا إلا وقد وصل إليه منا معروف فاستعن (بهذين) (٣) على نفقة شهرك هذا، فقال (عمرو) (٤): اقرأ على الأمير السلام وقيل له: (إنا) (٥) واللَّه ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا، (ورده) (٦) عليه.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ایاس معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرو بن نعمان بن مقرن کے ہاں مہمان تھا، پس جب رمضان کا مہینہ آیا تو حضرت مصعب بن زبیر کی طرف سے ایک آدمی دو ہزار درہم لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : بیشک امیر نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے : یقینا ہم نے کسی بھی نیک پڑھنے والے کو نہیں چھوڑا مگر یہ کہ اس کو ہماری طرف سے کچھ مال مل گیا۔ پس آپ ان روپوں کو اس مہینہ کے خرچ میں استعمال کیجئے۔ تو حضرت عمرو نے فرمایا : امیر کو سلام کہیے گا اور ان سے کہنا : بیشک اللہ کی قسم ہم قرآن کو دنیا کی غرض سے نہیں پڑھتے ۔ اور آپ نے یہ ہدیہ واپس بھیج دیا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) في [أ، ب، ط، هـ]: (لن).
(٣) في [ك]: (بهاتين).
(٤) في [جـ، ك]: (عمر).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) في [أ، ط، هـ]: (ورد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 31999
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31999، ترقيم محمد عوامة 30627)