مصنف ابن ابي شيبه
كتاب فضائل القرآن
من كره أن يتأكل بالقرآن باب: جو شخص نا پسند کرتا ہے کہ قرآن کے ذریعے سے کھائے
حدیث نمبر: 31995
٣١٩٩٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس قال: قال عمر: قد أتى علي زمان وأنا أحسب من قرأ القرآن يريد به (١) اللَّه، فقد ⦗٤١٣⦘ خيل لي الآن بأخرة أني أرى قوما قد قرأوه يريدون به الناس، فأريدوا اللَّه بقراءتكم، وأريدوا اللَّه بأعمالكم (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو فراس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : مجھ پر ایک زمانہ گزرا ہے کہ میں نے گمان کیا کہ ایک شخص نے قرآن پڑھا اللہ کی رضا مندی کے لیے تحقیق مجھے ابھی خیال آیا اخیر میں میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے قرآن پڑھا اور اس کے ذریعہ لوگوں کا ارادہ کیا۔ پس تم لوگ اپنے پڑھنے کے ذریعہ اللہ کو راضی کرو۔ اور اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کو راضی کرو۔
حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: زيادة (وجه)، وفي [ط]: (وجهه)
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي فراس، أخرجه أحمد (٢٨٦)، والحاكم ٤/ ٤٨٥، والضياء (١١٦)، وأبو يعلى (١٩٦)، والبيهقي ٩/ ٤٢، والمزي ٣٤/ ١٨٤، وابن عساكر ٤٤/ ٢٧٨.