حدیث نمبر: 3197
٣١٩٧ - حدثنا ملازم بن عمرو (عن) (١) عبد اللَّه بن بدر عن قيس بن طلق بن علي عن أبيه قال: جاء رجل فقال: يا نبي اللَّه ما ترى في الصلاة في (الثوب) (٢) الواحد؟ قال: فأطلق (نبي اللَّه) (٣) ﷺ إزاره (فطارق) (٤) به رداءه، ثم اشتمل بهما، ثم صلى بنا، فلما قضى الصلاة قال: "أَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟ " (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کو آپ کیسا سمجھتے ہیں ؟ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ازار کی جگہ اپنی چادر سے ستر کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد فرمایا کہ کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے مل جاتے ہیں ؟

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (ابن).
(٢) في [أ، جـ، ك]: (ثوب).
(٣) في [أ، جـ، ك]: (النبي).
(٤) في [أ، ب]: (فطارق)، وكذا في [جـ]: وفي [ك، هـ] (فطارف).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3197
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ قيس صدوق، أخرجه أحمد (١٦٢٨٥)، وأبو داود (٦٢٩)، وابن حبان (٢٢٩٧)، والطحاوي ١/ ٣٧٩، والطبراني (٨٢٤٥)، والبيهقي ٢/ ٢٤٠، والطيالسي (١٠٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3197، ترقيم محمد عوامة 3184)