مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كره أن يؤثر السجود في وجهه باب: جو حضرات اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ سجدہ کرتے ہوئے چہرے کو بھی زمین سے لگائے
حدیث نمبر: 3169
٣١٦٩ - حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن يزيد بن الأصم قال: (قيل) (١) لميمونة: ألم تري إلى فلان ينقر جبهته بالأرض يريد أن يؤثر بها أثر السجود، فقالت: دعه لعله (يلح) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ سے کہا کہ کیا آپ نے فلاں شخص کو دیکھا جو چونچ کی طرح اپنی پیشانی زمین پر مارتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی پیشانی پر سجدوں کا نشان پڑجائے ! حضرت میمونہ نے از راہ تمسخر فرمایا کہ اسے ایسا کرنے دو ، شاید کہ چونچیں مار مار کر وہ زمین میں داخل ہوجائے !
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (قلت).
(٢) في [أ]: (يلج)، وفي [هـ]: (ملح).