حدیث نمبر: 3158
٣١٥٨ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا (أبو) (١) هارون قال: صليت بالمدينة فسبقت ببعض الصلاة، فلما سلم الإمام قمت لأقضي ما سبقت (به) (٢)، فجبذني رجل كان إلى جنبي، ثم قال: كان ينبغي لك أن لا تقوم حتى ينحرف، قال: فلقيت أبا سعيد (فذكرت له ذلك) (٣)، فكأنه لم يكره ما صنعت أو كلمة نحوها (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ہارون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مدینہ منورہ میں نماز پڑھی تو میری کچھ نماز جماعت سے رہ گئی۔ جب امام نے سلام پھیرلیا تو میں باقی ماندہ نماز کو ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ اتنے میں میرے ساتھ کھڑے ایک آدمی نے مجھے زور سے کھینچا اور کہا کہ جب تک امام رخ نہ پھیرلے تمہیں کھڑا نہیں ہونا چاہئے۔ میں نے اس بات کا ذکر حضرت ابو سعید سے کیا تو انہوں نے میرے عمل کو بالکل مکروہ خیال نہ فرمایا۔

حواشی
(١) سقط من: [ب].
(٢) زيادة في: [جـ، ك].
(٣) ورد في [جـ، ك]: (فذكرت له ذلك)، وفي [ب]: (فذكرت ذلك له)، وفي [هـ]: (فذكرت ذلك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3158
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدا؛ لحال أبي هارون.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3158، ترقيم محمد عوامة 3145)