حدیث نمبر: 3124
٣١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نُمير قال: حدثنا الأعمش عن عمرو ابن مرة قال: حدثني شيخ عن (صلة) (١) بن زفر قال: سمعت ابن عمر يقول في دبر الصلاة: اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت يا ذا الجلال والإكرام، ثم صليت إلى جنب عبد اللَّه بن عمرو فسمعته يقولهن، قال: فقلت له: إني سمعت ابن عمر يقول مثل الذي تقول، فقال عبد اللَّه بن (عمرو) (٢): إن رسول اللَّه ﷺ كان يقولهن (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صلہ بن زفر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے : اے اللہ ! تو سلام ہے، تجھی سے سلامتی ملتی ہے، تو بابرکت ہے اور جلال و اکرام والا ہے۔ پھر میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی انہوں نے بھی یہی کلمات کہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی یہی کلمات کہتے ہوئے سنا تھا۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کو کہا کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (صلة)، وفي [أ]: (صلت)، وفي [ب، هـ]: (صهيب).
(٢) في [أ]: (عمر).
(٣) مجهول، أخرجه مسدد كما في المطالب (٥٣٤)، والطبراني في الدعاء (٦٥٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3124
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3124، ترقيم محمد عوامة 3112)