مصنف ابن ابي شيبه
كتاب أقضية رسول الله ﷺ
كتاب أقضية رسول الله ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
حدیث نمبر: 31074
٣١٠٧٤ - حدثنا معاوية بن هشام (حدثنا) (١) الثوري عن حميد الأعرج عن طارق المكي عن جابر قال: قضى رسول اللَّه ﷺ في (امرأة) (٢) من الأنصار أعطاها ابنها حديقة من تحل (فماتت) (٣) فقال ابنها: إنما أعطيتها (حياتها) (٤)، وله إخوة فقال (له) (٥) رسول اللَّه ﷺ: " (هي) (٦) (لها) (٧) حياتها وموتها"، قال: (فإني) (٨) كنت تصدقت بها عليه، قال: "فذاك (أبعد) (٩) لك" (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ عطیہ دیا تھا پس وہ عورت مرگئی تو اس کا بیٹا کہنے لگا میں نے تو یہ باغ اپنی ماں کو صرف ان کی زندگی کے لیے دیا تھا ، اور اس انصاری کا بھائی بھی تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہدیہ ان کی زندگی اور موت دونوں کے لیے شمار ہوگا ۔ انصاری کہنے لگے : یقینا میں نے تو یہ باغ ان پر صدقہ کیا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پس اب تو یہ تیرے لیے بہت بعید ہے۔
حواشی
(١) في [ك]: (أخبرنا)، وفي [هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [ط]، وفي [ك]: (المرأة).
(٣) في [ط]: (فمات).
(٤) في [جـ]: بياض.
(٥) سقط من: [جـ، ك].
(٦) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (هو).
(٧) في [ط]: (له).
(٨) في [جـ]: (فإن)، وفي [أ، ط، هـ]: (إن).
(٩) في [ط]: (بعدك).
(١٠) شاذ، أخطأ فيه معاوية وقد روي عن سفيان عن حميد عن محمد بن إبراهيم عن جابر كما عند أحمد، وأخرجه أحمد (١٤١٩٧)، والبيهقي ٦/ ١٧٤، وأبو داود (٣٥٥٧)، والطحاوي ٤/ ٩٣، وانظر: ١٠/ ٦٧٠ و ٧/ ١٣٧، وانظر: صحيح مسلم (١٦٢٥).