حدیث نمبر: 31055
٣١٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البَخْتَرِي عن علي قال: بعثني النبي ﷺ إلى أهل اليمن لأقضي بينهم، قلت: يا رسول اللَّه (إنه) (١) لا علم لي بالقضاء، فضرب بيده على صدري وقال: "اللهم اهد قلبه واسدد لسانه" قال: فما شككت في قضاء بين اثنين حتى جلست مجلسي هذا (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن والوں کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے تو فیصلہ سے متعلق کوئی علم نہیں ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر مارا اور فرمایا : اے اللہ اس کے دل کو ہدایت نصیب فرما اور اس کی زبان کو سیدھا فرما دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سے میں اس جگہ میں بیٹھا ہوں تو مجھے کبھی بھی دو بندوں کے درمیان کسی فیصلہ میں شک نہیں ہوا۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (إني).
(٢) منقطع؛ أبو البختري لم يسمع من علي، أخرجه أحمد (٦٣٦)، وابن ماجه (٢٣١٠)، والحاكم ٣/ ١٥٣، والبزار (٩١٢)، وعبد بن حميد (٩٤)، وأبو يعلى (٤٠١)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٨٩، وابن سعد ٢/ ٣٣٧.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31055
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31055، ترقيم محمد عوامة 29708)