مصنف ابن ابي شيبه
كتاب أقضية رسول الله ﷺ
كتاب أقضية رسول الله ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
٣١٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن حنش بن المعتمر قال: حفرت زبية باليمن للأسد، فوقع (فيها) (١) الأسد، فأصبح الناس يتدافعون على رأس البئر، فوقع فيها رجل (فتعلق) (٢) برجل، ثم تعلق الآخر بآخر، فهوى فيها أربعة فهلكوا (٣) جميعًا، فلم يدر الناس كيف يصنعون؟ فجاء ⦗٨٤⦘ علي ﵀ فقال: إن (شئتم) (٤) قضيت بينكم بقضاء يكون (حاجزًا) (٥) بينكم حتى تأتوا النبي ﷺ (٦) قال: فإني أجعل الدية على من (حضر) (٧) رأس البئر، فجعل للأول الذي هو في البئر ربع الدية، وللثاني ثلث الدية، وللثالث نصف الدية، وللرابع الدية كاملة، قال: فتراضوا على ذلك حتى أتوا النبي ﷺ فأخبروه بقضاء علي فأجاز القضاء (٨).حضرت حنش بن المعتمر فرماتے ہیں کہ یمن میں شیر کو قید کرنے کے لئے ایک گڑھا کھودا گیا، تو شیر اس میں گرگیا، پھر لوگوں نے کنویں کے سر پر ایک دوسرے کو دھکا دینا شروع کردیا ۔ پس کنویں میں ایک آدمی گرنے لگا تو اس نے دوسرے آدمی کو پکڑ لیا پھر دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا اس طرح چار آدمی کنویں میں گرگئے اور سب ہلاک ہوگئے، پس لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ اب کیا کریں ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے اگر تم چاہو تو میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہوں جو تمہارے درمیان رکاوٹ ہوگا یہاں تک کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، اور کہا کہ دیت ان لوگوں پر ڈالتا ہوں جو کنویں کے منہ کے ارد گرد تھے، پس پہلا شخص جو کنویں میں گرا تھا اسے دیت کا چوتھائی حصہ ملے گا اور دوسرے کو دیت کا تیسرا حصہ ملے گا اور تیسرے کو دیت کا آدھا حصّہ ملے گا اور چوتھے شخص کو کامل دیت ملے گی، حضرت حنش بن المعتمر فرماتے ہیں کہ سب لوگ اس فیصلہ پر رضا مند ہوگئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے متعلق بتلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فیصلہ کو نافذ فرما دیا۔