مصنف ابن ابي شيبه
كتاب أقضية رسول الله ﷺ
كتاب أقضية رسول الله ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
حدیث نمبر: 31037
٣١٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار (قال) (١): حدثنا ابن أبي ذئب عن (أبي) (٢) (المعتمر) (٣) (عن عمر بن) (٤) خلدة الأنصاري، قال: (جئنا أبا) (٥) هريرة في صاحب لنا أصيب بهذا الدين، يعني أفلس فقال: قضى رسول اللَّه ⦗٧٩⦘ ﷺ في رجل مات أو أفلس أن صاحب المتاع أحق بمتاعه إذا وجده إلا أن يترك صاحبه وفاء (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خلدۃ الانصاری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے ایک دوست کے معاملہ میں جو کہ قرض میں پھنس گیا تھا یعنی وہ مفلس اور دیوالیہ ہوگیا تھا تو ابوہریرہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو مرگیا ہو یا مفلس ہوگیا ہو یوں فیصلہ فرمایا کہ صاحب مال جب اپنا مال بعینہ اس کے پاس پائے تو وہ اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے البتہ اگر مالک اپنا حق پورا پورا چھوڑ دے تو ٹھیک ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٣) في [أ، ب، ط]: (معتمر).
(٤) في [هـ]: (بن عمرو بن رافع عن ابن).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (جيء بأبي).
(٦) مجهول؛ أبو المعتمر مجهول، أخرجه أبو داود (٣٥٢٣)، وابن ماجه (٢٣٦٠)، والحاكم ٢/ ٥٠، والطيالسي (٢٣٧٥)، والدارقطني ٣/ ٢٩، والبيهقي ٦/ ٤٦، والمزي ٢١/ ٣٢٩، وابن خلف في أخبار القضاة ١/ ١٣١، وأصله في الصحيحين بدون الاستثناء أخرجه البخاري (٢٤٠٢)، ومسلم (١٥٥٩).