حدیث نمبر: 31027
٣١٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن زينب (بنت) (١) أم سلمة (عن أم سلمة) (٢) قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنكم تختصمون الي وإنما أنا بشر، (ولعل) (٣) بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض، وإنما أقضي بينكم على نحو (مما) (٤) أسمع منكم، فمن قضيت له من حق أخيه شيئًا فلا يأخذه، فإنما أقطع له قطعة من النار يأتي (بها) (٥) يوم القيامة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو ، اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، اور شاید کہ تم میں سے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت اپنی دلیل کو اچھا کر کے بیان کرتے ہیں تو میں جو کچھ تم سے سنتا ہوں اس کی بنیاد پر تمہارے درمیان فیصلہ کردیتا ہوں۔ پس جس کسی کے لیے بھی میں نے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردیا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس حق کو نہ لے کیونکہ میں نے اس کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے جو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (ابنة).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [ط]: (يعد).
(٤) في [أ، هـ]: (ما).
(٥) سقط من: [أ، ب، ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31027
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٦٧)، ومسلم (٧١٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31027، ترقيم محمد عوامة 29684)