مصنف ابن ابي شيبه
كتاب أقضية رسول الله ﷺ
كتاب أقضية رسول الله ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
حدیث نمبر: 31024
٣١٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى بن) (١) زكريا عن أبيه عن حبيب بن أبي ثابت عن حميد عن جابر بن عبد اللَّه قال: نحل (رجل) (٢) منا أمه (نخلا) (٣) ⦗٧٤⦘ (حياتها) (٤) فلما ماتت قال: أنا أحق (بنخلي) (٥) فقضى (النبي) (٦) ﷺ أنها ميراث (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک آدمی نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک کھجور کا درخت دے دیا۔ جب اس کی والدہ فوت ہوگئیں تو وہ کہنے لگا کہ میں اپنے کھجور کے درخت کا زیادہ حق دار ہوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس درخت کے میراث ہونے کا فیصلہ فرمایا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، خ، ز، ع، ك، هـ]، وأثبته من شرح معاني الآثار.
(٢) في [ط]: (رجلًا).
(٣) في [هـ]: (نحلًا).
(٤) في [أ، ب، ط]: (حيوتها).
(٥) في [هـ]: (بنحلي).
(٦) في [ك]: (رسول اللَّه).
(٧) مجهول، حميد هو الكندي مجهول، أخرجه الطحاوي ٤/ ٩٣، وبنحوه أحمد (١٤١٩٧)، وأبو داود (٣٥٥٧)، والبيهقي ٦/ ١٧٤، وعبد الرزاق (١٦٨٨٦)، ومسلم (١٦٢٥)، وأبو يعلى (١٨٣٥)، والشافعي ٢/ ١٦٩.