حدیث نمبر: 31016
٣١٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون حدثنا عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال: فرق رسول اللَّه ﷺ بينهما -يعني المتلاعنين- وقضى أن لا بيت لها عليه ولا قوت، من أَجل أنهما يتفرقان من غير طلاق ولا متوفى عنها، وقضى أن لا يدعى (ولدها) (١) لأب (٢) ولا ترمى هي ولا يرمى ولدها، ومن رماها أو رمى ولدها فعليه الحد (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِعان کرنے والے زوجین کے درمیان تفریق کی اور یہ فیصلہ فرمایا کہ آدمی کے ذمہ نہ ہی عورت کی رہائش ہے اور نہ ہی نفقہ ہے اس لیے کہ وہ دونوں بغیر طلاق کے جدا ہوئے ہیں اور نہ ہی یہ عورت متوفی عنھا زوجھا کے قبیل میں سے ہے اور یہ فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے بچہ کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس عورت پر تہمت لگائی جائے گی اور نہ ہی اس کے بچہ پر تہمت لگائی جائے گی اور جس نے عورت پر یا اس کے بچہ پر تہمت لگائی تو اس پر حد قذف جاری ہوگی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ح، ط، هـ].
(٢) في [أ، ب] زيادة: (ولدها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31016
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عباد بن منصور، أخرجه أحمد (٢١٣١)، وأبو داود (٢٢٥٦)، والطيالسي (٢٦٦٧)، وأبو يعلى (٢٧٤٠)، وابن جرير في التفسير ١٨/ ٨٣، والبغوي في التفسير ٣/ ٣٢٤، والبيهقي ٧/ ٣٩٤، وابن عبد البر في التمهيد ١٥/ ٤٢، وابن شبه في تاريخ المدينة (٧٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31016، ترقيم محمد عوامة 29675)