حدیث نمبر: 31013
٣١٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عوف قال: قرئ علينا (كتاب) (١) عمر بن عبد العزيز أيما رجل أفلس فأدرك رجل (متاعه) (٢) (بعينه) (٣) فهو ⦗٧٠⦘ أحق به من سائر الغرماء، (إلا أن يكون اقتضى من ماله شيئًا فهو أسوة الغرماء) (٤)، قضى بذلك رسول ﷺ (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عوف فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کا خط پڑھ کر سنایا گیا : کہ جو کوئی بھی مفلس ہوگیا پھر کسی آدمی نے اپنا ذاتی سامان اس شخص کے پاس پا لیا تو وہ اکیلا تمام قرض خواہوں سے اس مال کا زیادہ حق دار ہوگا مگر یہ کہ اس نے اس مفلس کے مال سے کچھ حصہ لے لیا ہو تو باقی مال تمام قرض خواہوں کے لیے برابر ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طریقہ سے یہ فیصلہ فرمایا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ط].
(٢) في [ط]: (فباعه).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٤) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31013
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عمر بن العزيز تابعي، وأخرجه البخاري (٢٤٠٢)، ومسلم (١٥٥٩) من حديث عمر بن عبد العزيز عن أبي بكر بن عبد الرحمن عن أبي هريرة مرفوعًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31013، ترقيم محمد عوامة 29672)