حدیث نمبر: 31001
٣١٠٠١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن زيد بن خالد وشبل و (أبي) (٢) هريرة قالوا: كنا عند النبي ﷺ فأتاه رجل فقال: أنشدك اللَّه إلا قضيت بيننا بكتاب اللَّه، فقال خصمه وكان أفقه منه: أجل يا رسول اللَّه اقض بيننا بكتاب اللَّه وائذن لي حتى أقول، (قال: "قل" قال) (٣): إن ابني كان عسيفًا على هذا، والعسيف الأجير، وأنه زنى بامرأته فافتديت منه بمائة (شاة) (٤) وخادم، فسألت (رجالًا) (٥) من أهل العلم فأخبرت أن على ابني جلد مائة وتغريب عام، وأن على امرأة هذا الرجم، فقال: النبي ﷺ: "والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب اللَّه: المائة شاة والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد مائة وتغريب عام، واغد يا أنيس على امرأة هذا، فإن اعترفت فارجمها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زید بن خالد اور شبل اور ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں۔ تو اس کا مخالف جو کہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا کہنے لگا ! جی ہاں اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں کچھ کہوں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہو ! اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس شخص کے پاس ملازم تھا تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا تو میں نے اس کے فدیہ میں سو بکریاں اور خادم دیا پھر علماء سے اس کے متعلق پوچھا ؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے سزا اور ایک سال کی جلا وطنی ہوگی اور اس شخص کی بیوی کو سنگسار کیا جائے گا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ میں ضرور بالضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ! سو بکریاں اور خادم تمہیں واپس دیے جائیں گے اور تمہارے بیٹے کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزاملے گی۔ اور اے انیس ! اس عورت کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کردو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٢) في [أ، ب، ط]: (أبو).
(٣) بياض في: [جـ].
(٤) بياض في [جـ]، وسقط من: [أ، ط].
(٥) في [أ، ب، ط]: (رجل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31001
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وهم ابن عينية في ذكر شبل فيه، أخرجه أحمد (١٧٠٤٢)، والترمذي (١٤٣٣)، والنسائي ٨/ ٢٤١، وابن ماجه (٢٥٤٩)، والشافعي في السنن (٥٣١)، والحميدي (٨١١)، وابن الجارود (٨١١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١١٣)، والطحاوي ٣/ ١٣٤، والبيهقي ٨/ ٢٢٢، والطبراني (٥١٩٢)، وأصله عند البخاري (٦٨٢٧)، ومسلم (١٦٩٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31001، ترقيم محمد عوامة 29660)