حدیث نمبر: 30997
٣٠٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن سلمة بن كهيل قال: كنا جلوسًا عند شريح إذ أتاه قوم يختصمون إليه في (عمرى) (١) جعلت لرجل حياته، فقال له: هي (له) (٢) حياته وموته، (فأقبل) (٣) (عليه الذي) (٤) (قضى) (٥) عليه يناشده فقال شريح: لقد (لامني) (٦) هذا في أمر قضى به النبي ﷺ (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلمہ بن کھیل فرماتے ہیں کہ ہم لوگ قاضی شریح کی مجلس میں تھے کہ چند لوگ ان کے پاس ایک ایسے گھر کا جھگڑا لے کر آئے جو کسی آدمی کو پوری زندگی کے لئے دے دیا گیا ہو۔ تو قاضی شریح نے ان کو کہا کہ یہ اس آدمی کو زندگی میں ملے گا اور موت کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گا۔ تو جس کے خلاف فیصلہ دیا وہ آپ کی طرف متوجہ ہوا اور قسمیں دینا شروع کردیں۔ قاضی شریح نے فرمایا : یہ شخص مجھے ایک ایسے معاملہ میں ملامت کر رہا ہے جس کا فیصلہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (عمر بن).
(٢) سقط من: [جـ، ك].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (وأقبل).
(٤) في [ط]: (على الذين).
(٥) سقط من: [جـ، ك].
(٦) في [ط]: (لاحني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 30997
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ شريح تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30997، ترقيم محمد عوامة 29656)