حدیث نمبر: 3053
٣٠٥٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن فياض قال: سمعت مصعب بن سعد يحدث (عن سعد) (١): أنه كان إذا تشهد فقال: سبحان اللَّه ملء السماوات ⦗١٤٩⦘ وملء الأرض وما (بينهن) (٢) وما تحت القرى [والحمد للَّه ملء السماوات وملء الأرض وما (بينهن) (٣) وما تحت الثري] (٤) واللَّه أكبر ملء السماوات وملء الأرض وما (بينهن) (٥) وما تحت الثرى قال شعبة: لا أدري (اللَّه) (٦) أكبر قبل أو الحمد للَّه، والحمد للَّه حمدا طيبًا مباركًا فيه لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم إني أسالك من الخير-ﷺ، ثم يسلم (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعدجب تشہد پڑھ لیتے تو یہ کلمات کہتے : میں اللہ کی پاکی بیان کرتاہوں زمین و آسمان بھرنے کے برابر اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھرنے کے برابر اور تحت الثری بھرنے کے برابر، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں زمین و آسمان بھرنے کے برابر اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھرنے کے برابر اور تحت الثری بھرنے کے برابر، اللہ سب سے بڑا ہے زمین و آسمان بھرنے کے برابر اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھرنے کے برابر اور تحت الثری بھرنے کے برابر (حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ اللہ اکبر پہلے کہا یا الحمد للہ پہلے کہا) اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ایسی تعریفیں جو پاکیزہ ہوں اور بابرکت ہوں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے سب تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ میں تجھ سے ساری خیروں کا سوال کرتا ہوں۔ یہ دعا مانگنے کے بعد وہ سلام پھیرتے۔

حواشی
(١) زيادة (عن سعد) من [أ، ب، جـ، ك].
(٢) في [هـ]: (بينهما).
(٣) في [هـ]: (بينهما).
(٤) سقط من: [ب] ما بين المعكوفين.
(٥) في [هـ]: (بينهما).
(٦) سقط من: [أ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3053
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3053، ترقيم محمد عوامة 3041)