حدیث نمبر: 3015
٣٠١٥ - حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا سيف بن أبي سليمان قال: سمعت مجاهدا يقول: حدثني عبد اللَّه بن (سخبرة) (١) قال: سمعت ابن مسعود يقول: علمني رسول اللَّه ﷺ التشهد، كفيَّ بين كفيه، كما يعلمني السورة من القرآن: "التحيات للَّه والصلوات (و) (٢) الطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة اللَّه وبركاته، السلام علينا وعلى عباد اللَّه الصالحين، أشهد أن لا اله إلا اللَّه وأشهد أن محمدا عبده (ورسوله) (٣) "، وهو بين ظهرانينا فلما قبض قلنا: السلام على النبي (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تشہد سکھائی، اس حال میں کہ میرا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھا، آپ نے مجھے تشہد کے کلمات اس طرح سکھائے جس طرح آپ ہمیں قرآن مجید کی کوئی سور ت سکھاتے تھے۔ وہ کلمات یہ تھے : تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ یہ کلمات اس وقت تک تھے جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں تھے جب آپ نے پردہ فرما لیا تو پھر ہم السَّلاَمُ عَلَیْک أَیُّہَا النَّبِیُّ کے بجائے السَّلاَمُ عَلَی النَّبِیُّ کہا کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك، هـ]: (سنجرة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط من: [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3015
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٦٢٦٥)، ومسلم (٤٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3015، ترقيم محمد عوامة 3003)