حدیث نمبر: 3014
٣٠١٤ - حدثنا هشيم قال: أنا حصين بن عبد الرحمن ومغيرة والأعمش عن أبي وائل عن عبد اللَّه قال: كنا إذا جلسنا خلف رسول اللَّه ﷺ في الصلاة نقول: السلام على اللَّه، السلام على جبرائيل، السلام على ميكائيل، السلام على فلان، (السلام على فلان) (١)، قال: (فالتفت) (٢) إلينا النبي ﷺ فقال: "إن اللَّه هو السلام فقولوا: التحيات للَّه (والصلوات والطيبات) (٣)، السلام عليك أيها النبي ورحمة اللَّه وبركاته، السلام علينا وعلى عباد اللَّه الصالحين، أشهد أن لا إله إلا اللَّه ⦗١٤٠⦘ (وأشهد) (٤) أن محمدا عبده ورسوله، فإنكم إذا فعلتم ذلك فقد سلمتم على كل عبد صالح في السماوات والأرض" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدا للہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز میں جب بیٹھا کرتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے : اللہ پر سلامتی ہو، جبریل پر سلامتی ہو، میکائیل پر سلامتی ہو، فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ سلام ہے، جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ کہا کرے : تمام زبانی عبادتیں، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں۔ اے نبی آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت و برکت آپ پر نازل ہو۔ ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جب تم نے ایسا کرلیا تو زمین و آسمان میں موجود ہر نیک بندے کو سلام کرلیا۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، ك]، وفي [س]: (وفلان).
(٢) في [ب]: (التفت).
(٣) في [ب]: (والصلوات الطيبات).
(٤) سقط من: [أ]: (أشهد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3014
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٨٣١)، ومسلم (٤٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3014، ترقيم محمد عوامة 3002)