مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
٢٩٩٥ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن حذيفة: أنه دخل المسجد فإذا رجل يصلي (من) (١) ناحية من أبواب كندة، فجعل لا يتم الركوع والسجود، فلما انصرف قال له حذيفة: [مذ كم هذه صلاتك؟ قال: مذ ⦗١٣٥⦘ (أربعين) (٢) سنة، فقال حذيفة] (٣): ما صليت (مذ) (٤) (أربعين) (٥) سنة، ولو مت وهذه صلاتك مت على غير الفطرة التي فطر عليها محمد ﷺ، ثم أقبل عليه يعلمه، فقال: إن الرجل ليخفف الصلاة ويتم الركوع والسجود (٦).حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ابوابِ کندہ کی طرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے لیکن رکوع سجدہ ٹھیک طرح نہیں کررہا۔ جب اس نے نماز مکمل کرلی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تم ایسی نماز کتنے عرصے سے پڑھ رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے چالیس سال سے نماز نہیں پڑھی، اگر ایسی نماز پڑھتے ہوئے تمہارا انتقال ہوجاتا تو تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے علاوہ کسی اور طریقے پر دنیا سے جاتے۔ پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا کہ آدمی نماز میں تخفیف کرسکتا ہے لیکن رکوع اور سجود میں کمی نہ کرے۔