مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 2994
٢٩٩٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر (و) (١) يزيد بن هارون عن حسين المعلم عن بديل عن أبي الجوزاء عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا ركع لم يشخص رأسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك، فإذا رفع رأسه من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما، وإذا سجد فرفع رأسه لم يسجد حتى يستوي جالسا، وكان يقول بين كل ركعتين التحية (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو اپنے سر مبارک کو نہ کمر سے نیچا رکھتے اور نہ ہی اونچا بلکہ ان دونوں کی درمیانی کیفیت میں رکھتے۔ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدے میں نہ جاتے جب تک اعتدال سے کھڑے نہ ہوجاتے۔ اور جب سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ہر دو رکعات کے بعد التحیہ پڑھا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ب، هـ]: (عن).