مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
٢٩٩١ - حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب عن سالم (البراد) (١) قال: أتينا أبا مسعود الأنصاري في بيته فقلنا له: حدثنا عن صلاة رسول اللَّه ﷺ فقام يصلي بين أيدينا، فلما ركع وضع كفيه على ركبتيه وجعل أصابعه أسفل من ذلك، وجافى مرفقيه حتى استوى كل شيء منه، ثم رفع رأسه، ثم قال: سمع اللَّه لمن حمده، فقام حتى استوى كل شيء منه، ثم سجد ففعل مثل ذلك فصلى ركعتين فلما قضاهما قال: هكذا (رأيت) (٢) رسول اللَّه ﷺ يصلي (٣).حضرت سالم براد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو مسعود کے گھر حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سکھا دیجئے۔ وہ ہمارے سامنے نماز کے لئے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے رکوع کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو گھٹنوں پر اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے رکھا۔ اپنی کہنیوں کو جسم سے اس طرح دور رکھا کہ جسم کا ہر عضو سیدھا ہوگیا۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا۔ پھر اس طرح کھڑے ہوئے کہ جسم کے ہر عضو میں اعتدال آگیا پھر سجدہ کیا اور سجدے میں بھی اسی طرح کیا۔ پھر آپ نے دو رکعات نماز پڑھیں۔ جب فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔