مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
٢٩٨٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا عبيد اللَّه بن عمر عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي هريرة: أن رجلا دخل المسجد فصلى ورسول اللَّه ﷺ في ناحية المسجد (فجاء) (١) فسلم عليه، فقال (له) (٢): " (وعليك) (٣)، ارجع (فصل) (٤) فإنك لم تصل بعد"، فرجع فسلم عليه فقال: "ارجع فإنك لم تصل بعد"، فقال (له الرجل) (٥) في الثالثة: فعلمني يا رسول اللَّه. فقال: "إذا قمت الى الصلاة فأسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة فكبر، ثم اقرأ بما تيسر معك من القرآن، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى (تعتدل) (٦) قائما، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا، ثم ارفع حتى تستوي قائما، أو قال: قاعدا، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها" (٧).حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے۔ وہ آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ جاؤ اور نماز پڑھو، تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ وہ گیا اور آکے دوبارہ اس نے سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ، تم نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ پھر تیسری مرتبہ اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے نماز سکھا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہوکر تکبیر کہو، پھر قرآن مجید کی جو تلاوت تمہارے لئے ممکن ہو وہ کرلو۔ پھر اطمینان سے رکوع کرلو، پھر پورے اعتدال سے کھڑے ہوجاؤ، پھر اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سیدھے کھڑے ہوجاؤ یا فرمایا کہ پھر سیدھے بیٹھ جاؤ۔ پھر یہ اعمال اپنی پوری نماز میں کرو۔