مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
٢٩٨٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن عجلان عن علي بن يحيى بن خلاد عن أبيه عن عمه وكان بدريا قال: كنا جلوسا مع رسول اللَّه ﷺ فدخل رجل فصلى صلاة خفيفة لا يتم ركوعا ولا سجودا، ورسول اللَّه ﷺ يرمقه، ونحن لا نشعر، قال: فصلى، ثم جاء فسلم على النبي ﷺ (فرد عليه) (١)، فقال: " (أعد) (٢) فإنك لم تصل"، (قال) (٣): ففعل ذلك ثلاثًا كل ذلك يقول له: " (أعد) (٤) فإنك لم تصل"، فلماكان في الرابعة قال: يا رسول اللَّه علمني فقد واللَّه اجتهدت. فقال: "إذا قمت الى الصلاة فاستقبل القبلة، ثم كبر، ثم اقرأ، ثم اركع حتى تطمئن راكعا، ثم ارفع حتى تطمئن قائما، ثم اسجد حتى تطمئن (ساجدا) (٥)، ثم اجلس حتى تطمئن جالسا، (ثم قم) (٦)، فإذا فعلت ذلك فقد تمت ⦗١٣٢⦘ صلاتك وما نقصت من ذلك نقصت من صلاتك" (٧).حضرت علی رضی اللہ عنہ بن یحییٰ بن خلاد اپنے والد سے اور وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے انتہائی پھرتی سے نماز پڑھی اور رکوع اور سجود بھی ٹھیک طرح نہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے گھور کر دیکھ رہے تھے جبکہ ہمیں اس بات کا احساس نہیں ہوا۔ جب وہ نماز پڑھ کر حاضر خدمت ہوا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ دوبارہ نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔ اس نے ایسا تین مرتبہ کیا لیکن ہر مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے یہی فرماتے کہ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی، جب وہ چوتھی مرتبہ حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! مجھے نماز سکھا دیجئے، خدا کی قسم ! میں نے تو پوری کوشش کرکے دیکھ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو قبلہ کی طرف رخ کرو۔ پھر تکبیر کہو، پھر قراءت کرو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو۔ پھر رکوع سے اٹھو تو اطمینان سے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو اور اطمینان سے سجدہ کرو۔ پھر بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور پھر کھڑے ہوجاؤ۔ اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز مکمل ہوگئی اور اگر اس میں سے کسی عمل میں کمی کی تو سمجھو وہ کمی تمہاری نماز میں پائی جارہی ہے۔