مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل ينقص صلاته (وما ذكر فيه) وكيف يصنع (فيها) باب: آدمی کی نماز میں کمی کیسے آتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 2986
٢٩٨٦ - حدثنا (ملازم) (١) بن (عمرو) (٢) (عن) (٣) عبد اللَّه بن بدر قال: حدثني عبد الرحمن بن علي بن شيبان عن أبيه علي بن شيبان وكان من الوفد قال: خرجنا حتى قدمنا (على) (٤) نبي اللَّه ﷺ فبايعناه وصلينا معه، فلمح بمؤخر عينه إلى ⦗١٣١⦘ رجل لا يقيم (صلبه) (٥) في الركوع والسجود، فلما قضى النبي ﷺ الصلاة قال: "يا معشر المسلمين لا صلاة (لامرئ) (٦) لا يقيم صلبه في الركوع والسجود" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ دورانِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن اکھیوں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہیں تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازپوری کرلی تو فرمایا کہ اے مسلمانوں کی جماعت ! اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کی کمر رکوع اور سجدے میں سیدھی نہ ہو۔
حواشی
(١) في حاشية [ب]: (لزيم أبو عمرو).
(٢) في [أ]: (عمر).
(٣) في [هـ]: (ابن).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ، ب، د]: (صلاته).
(٦) في [جـ، ك]: (لمن).