مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في المرأة تمر عن يمين الرجل وعن يساره وهو يصلي باب: اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2982
٢٩٨٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن زهير عن أبي إسحاق قال: حدثني مصعب ابن سعد قال: كان حذاء قبلة سعد تابوت، وكانت الخادم تجيء (فتأخذ) (١) حاجتها عن يمينه وعن شماله لا تقطع صلاته (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعد کے قبلے کی جانب ایک الماری تھی، خادمہ ان کے دائیں اور بائیں جانب سے اپنی ضرورت کی چیز لینے کے لئے آیا کرتی تھی لیکن وہ اپنی نماز نہ توڑتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ]: (فأخذها).