مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في المرأة تمر عن يمين الرجل وعن يساره وهو يصلي باب: اگر عورت کسی نمازی کے دائیں یا بائیں جانب سے گذرے تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2978
٢٩٧٨ - حدثنا حفص بن غياث عن ابن عون عن ابن سيرين عن أبي سعيد الخدري: أنه كان يصلي والمرأة تمر به يمينا وشمالا فلا يرى بذلك بأسا (١). - قال: وكان ابن سيرين إذا قامت بحذائه سبح بها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور ان کے آگے سے کوئی عورت گذر جاتی تو وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور حضرت ابن سیرین کی عادت تھی کہ اگر کوئی عورت ان کے برابر آکر کھڑی ہوجاتی تو اسے ہٹانے کے لئے تسبیح پڑھا کرتے تھے۔