مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يكره أن يمر الرجل بين يدي الرجل وهو يصلي باب: جن حضرات نے نمازی کے آگے سے کسی کے گذرنے کو نا پسند کیا ہے
حدیث نمبر: 2940
٢٩٤٠ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت (عبد الحميد بن عبد الرحمن) (١) عامل عمر بن عبد العزيز ومر رجل بين يديه وهو يصلي فجبذه حتى كاد يخرق ثيابه فلما انصرف قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لو يعلم المار بين يدي المصلي لأحب أن ينكسر فخذه ولا يمر بين يديه" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے گورنر عبد الحمید بن عبد الرحمن کے آگے سے ایک آدمی نماز کے دوران گذرنے لگا، تو انہوں نے اسے اس زور سے کھینچا کہ اس کے کپڑے پھٹنے کے قریب ہوگئے۔ جب انہوں نے نماز پوری کرلی تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والا جان لے کہ اس میں کتنا گناہ ہے تو وہ اپنی ران کے ٹوٹنے کو ترجیح دے لیکن نمازی کے آگے سے نہ گذرے۔
حواشی
(١) في حاشية [ب]: (ابن زيد بن الخطاب).