مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يسجد على ثوبه من الحر والبرد باب: گرمی یا سردی کی بنا پر آدمی اپنے کپڑے پر سجدہ کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2793
٢٧٩٣ - [حدثنا] أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن فضيل عن إبراهيم قال: ⦗٩١⦘ صلى عمر ذات يوم (بالناس) (١) الجمعة في يوم شديد (الحر) (٢) فطرح طرف ثوبه بالأرض فجعل يسجد عليه، ثم قال: يا أيها الناس إذا وجد أحدكم (الحر) (٣) فليسجد على طرف ثوبه (٤).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمرنے ایک دن شدید گرمی کے دنوں میں لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی، آپ نے اپنا کپڑا آگے ڈالا اور اس پر سجدہ کیا۔ پھر فرمایا ” اے لوگو ! اگر تم میں سے کسی کو گرمی محسوس ہو تو اپنے کپڑے کے کنارے پر سجد ہ کرلے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الناس).
(٢) في [د، هـ]: (البرد).
(٣) في [ط، هـ]: (الحر والبرد).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن عمر.