حدیث نمبر: 26938
٢٦٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء في التماثيل ما كان مبسوطًا (يوطأ) (١) (ويبسط) (٢) فلا بأس به، (و) (٣) ما كان (ينصب) (٤) فإني (أكرهها) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بچھائی جانے والی چیز پر تصویر کے ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ آویزاں کی جانے والی چیز میں میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (تؤطأ).
(٢) في [أ، ح، ط]: (وتبسط).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) في [أ، ح، ط]: (تنصب).
(٥) في [هـ]: (أكرهه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26938
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26938، ترقيم محمد عوامة 25806)