مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
في واصلة الشعر بالشعر باب: بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی کے بارے میں
حدیث نمبر: 26858
٢٦٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام بن عروة عن فاطمة عن أسماء قالت: جاءت امرأة إلى النبي ﷺ فقالت: إن ابنتي (عريس) (١) وقد (أصابتها) (٢) الحصبة (فتمرق) (٣) شعرها (أفاصل) (٤) لها فيه؟ فقال لها رسول اللَّه ﷺ: "لعن اللَّه الواصلة والمستوصلة" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا۔ میری بیٹی کی شادی ہوئی ہے۔ اور اس کو خسرہ کی بیماری ہوگئی پس اس کے بال سارے جھڑ گئے ہیں۔ تو کیا میں اس کے لئے اس بیماری میں بال لگوا لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے کہا۔ ” اللہ تعالیٰ بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرماتے ہیں۔ “
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (عليس) (عروس)، وفي: [جـ]: (عالس).
(٢) في [جـ]: (أصابها).
(٣) في [ط]: (فتمزق).
(٤) في [أ، ح، ط]: (فاصل)، وكذلك في: [ز].