٢٦٨٤٩ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن النضر بن أنس ابن مالك قال: كنت جالسا عند ابن عباس فجعل يفتي ولا يقول قال رسول اللَّه ﷺ (٢) حتى سأله رجل فقال: إني رجل (أصور) (٣) هذه الصور، فقال له ابن عباس: ادنه، (فدنا) (٤) الرجل، فقال ابن عباس: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من صور صورة في الدنيا كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة وليس (بنافخ) (٥) " (٦).حضرت نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اور وہ فتویٰ دے رہے تھے۔ (دلیل میں) یہ نہیں کہتے تھے۔ قال رسول اللّٰہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں تک کہ ایک آدمی نے آپ سے سوال کیا : میں ایسا آدمی ہوں جو یہ تصاویر بناتا ہوں ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا۔ قریب ہو جاؤ۔ چناچہ وہ صاحب قریب ہوگئے ۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا ہے۔ ‘” جو شخص دنیا میں کوئی تصویر بنائے گا تو قیامت کے دن اس کو اس تصویر میں روح پھونکنے کا مکلف بنایا جائے گا اور وہ روح نہیں پھونک سکے گا۔ “